نصرت فتح علی خان

NFAK1
source: pl.wikipedia.org

عظیم پاکستانی قوال ، اور سنگر استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہوۓ . آپ كے والد فتح علی خان اور چچا مبارک علی خان ، اپنے وقت كے مشہور قوال تھے .

ان كے خاندان نے قیام پاکستان كے وقت مشرقی پنجاب كے ، ضلع جالندھر سے حجرت اختیار کی تھی . نصرت فتح الی خان نے اپنی تمام عمر قوالی كے فن کو سیکھنے اور اسے مشرق مغرب میں مقبول عام بنانا میں صرف کر دی . انہوں نے صوفیہ اکرام كے پیغامات کو دُنیا كے کونے کونے پوھنچایا ر انہیں کے فیض سے اُنہیں بے پناہ شہرت نصیب ہوئی .

 

hqdefault
source: www.youtube.com

پاکستان میں نصرت فتح علی خان کا پہلا تعارف ، اپنے خاندان کی روایتی رنگ میں گائی ہوئی ان کی ابتدائی قوالیوں سے ہوا . ان کی مشہور قوالی “ علی مولاعلی” ان دنوں کی یادگار ہے .

بَعْد ازاں انہوں نے لوک اور اپنے ہم اثر شعرا کا كلام اپنے مخصوص انداز میں گا کر ، ملک كے اندر کامیابی کے جھنڈے گاڑھے اور اس دوڑ میں “ سن ڈی مٹھی مٹھی كوك ” اور “ سانسوں کی مالا پہ میں سمروں میں پی کا نام ” نے قوالی سے لگاؤ نا رکھنے والے لوگوں کو بھی اپنی طرف راغب کیا ، اور یوں نصرت فتح الی خان کا حلقہ اثر ، وسیع تر ہو گیا

 

 

نصرت فتح علی خان صاحب کی شہرت کا بلندیوں کا سفر سہی معنوں میں اس وقت شروع ہوا ، جب پیٹر گیبریل کی میں گائی گئی . ان کی قوالی “ دم مست قلندر مست مست ” ریلیز ہوئی .

اِس مشہور قوالی كے منظر عام میں آنے سے پہلے ، وہ امریکا میں اکیڈمی آف میوزک كے نیکسٹ ویو فیسٹیول میں اپنے فن كے جوہر دکھا چکے تھے . لیکن 90 کی دہائی میں “دم مست قلندر مست مست ” کی ریلیز كے بعد انہیں یونیورسٹی آف واشنگٹن میں موسیقی کی تدریس کی دعوت دی گئی . مغرب كے علاوہ نصرت فتح علی خان نے بھارت میں بھی کئی فلموں کی موسیقی بھی دی .

. کئی فلموں میں ان كے گانے استعمال کیے گئے اور آج تک کیے جا رہے ہیں .گنیس بُک آف ورلڈ ریکارڈز كے مطابق دُنیا بھر میں قوالی كے سب سے زیادہ البم نصرت فتح علی خان كے ریلیز کیے گئے جس كے تعداد 125 ہے .

 

نصرت فتح علی خان کو ان كے والد قوال نہیں بنانا چاھتے تھے ، لیکن کہتے ہیں کہ نصرت فتح علی خان نے اپنے والد کی وفات كے چند دن بعد ہی انہیں خواب میں دیکھا ، جس میں انہوں نے خان صاحب کو گائیکی کی تاکید کی .

اس وقت نصرت فتح الی خان کی عمر محض 16 برس تھی ، اور یوں بطور قوال وہ دنیا میں متعارف ہوۓ. ان کے ابتدائی سالوں کی گائیکی تصوف كے پیغامات سے بھرپور رہی ، یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں زیادہ لوگ ان کے نام سے زیادہ آشْنا نہیں تھے .

تا ہم “ دم مست قلندر مست ”نامی قوالی پورے پاکستان میں ان کی پہچان بن گئی . اس وقت تک مغرب كے نصرت فتح علی خان ’ كے کام سے آشْنا ہو چکے تھے اور ان میں کئی بہت متاثر بھی تھے .

اِس بارے میں بھارت كے مشہور فلمساز اور ، مظفر علی کہتے ہیں کہ “ نصرت کی آواز دلوں میں گھر کر جاتی تھی ، مشرق ہو یا مغرب ، ہندوستان ہو یا پاکستان ، ان کی آواز نے تمام سرحدیں توڑ دی تھی ” .

 

نصرت فتح علی خان نے قوالی میں جدت لاکر مغرب میں بڑے پیمانے پر اِس صنف کو متعارف کروایا اور ساتھ ہی نامور مغربی موسیقاروں كے ساتھ مل کر ، اپنے فن کا مظاہرہ کیا . جس كے بعد مغرب میں بھی وہ کسی تعارف كے محتاج نہیں رہے ،

لیکن ان موسیقاروں نے قوالی میں جدت پیدا کرنے كے لیے نئے ساز شامل کیے ، اِس حوالے سے بھرتی مظفر علی کا کہنا تھا کہ “ قوالی میں بجنے والے تمام ساز ایک رنگ یا مزاج میں ڈھلے ہوتے ہیں ، اس لئے ان پر اضافی ساز ڈالنا زبردستی دوسرا لباس كے مترادف ہے ” .

 

 

نصرت فتح الی خان کی گائیکی کا اصل جادو یہ ہے کہ ہمارے دِل ان کی گائیکی كے اثر كے ساتھ دھڑکنے لگتے ہیں . بندے کو رب سے ہم كلام کر دینے والا یہ عظیم فنکار اگست 1997 کو برمنگھم كے ایک اسپتال میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملا .

 

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سرے شہر کو ویران کر گیا

 اس بلاگ سے متعلق اپنی قیمتی راۓ ، آراء اور مشوروں کے لئے کیجئے ای میل ارسال اس پتہ پر

djNaeemKhan@msn.com

یا پھر وزٹ کیجئے میرا فین پیج

https://www.facebook.com/djnaeemkhan

RJ Muhammed Naeem

RJ / Broascaster / Voiceover / Dubbing Artist / Writter / Poet / Singer / News Anchor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *