اس دور میں پچھتاؤگے زنجیر ہلا کر

تحریر: کرن صدیقی

justice-delayed-is-justice-denied

پانامہ کو ایک تماشہ بنا کرہر روز ایک نیا سرکس لگائیا جاتا ہے لیکن آئیئے آج زرا آزاد اور خود مختار عدالت عظمی کی بات کرتے ہیں۔ توہین عدالت کی جسارت تو ہم میں ہے نہیں البتہ پاکستانی عدالتی نظام کا مرثیہ ضرور پڑھا جاسکتا ہے۔

کچھ روز قبل 19 سال جیل کاٹنے والے جس مظہر حسین کو سپریم کورٹ نے ثبوت نہ ملنے کی بنیاد پر بے گناہ قرار دے کر رہائی کا حکم دیا وہ دو سال قبل قید میں ہی زندگی سے آزادی پا چکا تھا۔ موت کا بلاوا عدالتی فیصلے پر بازی لے گیا کچھ دن پہلےدو بھائیوں کوپھانسی کے بعد سپریم کورٹ نے رہائی کا پروانہ جاری کیا انصاف ملا مگر روئے زمین پر نہیں زیرِ زمین جانے کے بعد، قبر میں سوئے غلام قادر اور غلام سرور کو پاکستان کی عدالت نے ڈیسک بجا کر “انصاف کی نوید” سنائی۔ مائی لارڈ ایک اور احسان کر دیں انہیں فیصلوں کی تحتیاں قبروں پرلگوا کر قبرستان آنے والے ہر شخص کو اس نظام پر فاتحہ پڑھنےکی سعادت بھی دیں۔ اس سے بھیانک اور شرمناک لمحہ کیا ہوگا ؟

معاشرے کفر کے ساتھ تو چلائے جا سکتے ہیں مگر ظلم کے ساتھ نہیں ۔

ہم مسلسل ظلم و انصافی کی تعفن زدہ لاش اٹھا ئے ترقی کے انہونے سپنے دیکھنے میں مصروف ہیں ۔عام طور پر یہ کہا جاتا ہے چونکہ مقدمے بہت زیادہ ہیں اس لیے اِنہیں نمٹانے میں تاخیر ہوجاتی ہے۔ تو جناب جب ایک مقدمے کو پچیس سال تک لٹکایا جائے گا تو پھر تو مقدموں کی تعداد لازمی بڑھے گی۔ یا پھر عدالتوں کو بند کردیا جائے کیونکہ جب عدالتوں سے انصاف ہی نہیں ملنا تو انکا فائدہ کیا ہے ؟

2012 سموسے ، 2014 شلوار اور 2016 پکوڑوں کے نام رہا۔

اس ملک نے بہت کچھ دیکھا ہے. ہم تقریباً ہر روز ہی تاریخ کے نئے نازک ترین دورسے گزر رہے ہوتے ہیں. آمروں سے لے کر سیاستدانوں تک ہر حاکم نے ہمیں دونوں ہاتھوں سے خوب لوٹا. ملک کا ہر چھوٹا بڑا ادارہ کرپشن کی نظر ہوگیا. لیکن عدلیہ وہ واحد ادارہ ہے جو آج بھی اپنے آپکو پاکستان کا سب سے معتبر ادارہ کہلانے پر مصر ہے

ایک سابق چیف جسٹس فرماتے ہیں ” کئی مارشل لاء آے لیکن عدالتی نظام منہدم نہیں ہوا”. اگر ان کی مراد سپریم کوٹ کی صیح و سالم اور کھوکھلی عمارت ہے تو ہم اتفاق کرتے ہیں. کیونکہ جس طرح جرنیلوں کے بار ہا آئین توڑنے کے باوجود آج بھی آئین سلامت ہے اسی طرح یہ نظام آمروں کے بوٹوں پر گرنے کے باوجود قابل احترام ہے. آزاد عدلیہ کے دلیر جج آمرکے عدالتی بریگیڈ بن کر بیٹھے رہے لیکن وہ آج بھی معزز ہیں۔

 طاقتور کےخلاف فیصلہ کبھی نہیں آیگا لیکن توہین عدالت  کے ڈر سے سب خاموش ضرور ہو جائيں گے

مقدس گاۓ کہلانے کا اگر کوئی حقدار ہے تو وہ آپ ہیں مائی لارڈ اگر اس ملک میں بادشاہت ہے تو اس کی جڑیں آپ کے لکھے گیے فیصلوں کی سیاہی نے مظبوط کیں ہیں۔ موجودہ چیف جیسٹس حضرت عمر کی مثالیں تو دیتے ہیں پر عمل کبھی نہیں آیا۔ مائی لارڈ اگر حاکم وقت عدالت میں پیش ہوتے تھے تو ان کو طلب کرنے والے راتوں کی سیاہی میں حکومتوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں نہیں کرتے تھے۔ مائی لارڈ آپ کے ترآزو سے ریھڑی والےکا ترآزو بھی بہتر ہے کم از کم انصاف تو کرتا ہے۔

آپ نے آج تک کتنے حکمران اور با اثر لوگوں کو سزا دی ہے؟ ایک دو نام ہی بتا دیجیے؟ چلیں چھوڑیں یہ تو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے لیکن سچ تو یہ ہے 2012 سموسے ، 2014 شلوار اور 2016 پکوڑوں کے نام رہا۔ سچ تو یہ ہے کہ عوام کیساتھ تاریخ کے بھیانک ترین مزاق عدلتیں ہی کرتی آئی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ طاقتور کےخلاف فیصلہ کبھی نہیں آیگا لیکن توہین عدالت ایک ایسی لٹکتی تلوار ہے جس کے ڈر سے سب خاموش ہو جائيں گے۔ یہ عدالتں اشرفیہ یا نظام کے خلاف کھڑے ہونے والوں کو رسوکر کے نشان عبرت بناتی ہیں۔ کیونکہ یہ جانتے ہیں ان کی لازوال خدمات کے صلے میں انہیں ریٹائرڈ جج کی حثیت سے صوبے کا گورنر بھی لگایا سکتا ہے۔

اگر انصاف ان عدالتوں سے ملنا ہوتا تو سپریم کورٹ کے باہر لٹکی شلواریں ماڈل ٹاؤن میں گری چودہ لاشیں کو مات نہ دیتیں۔

بات گھوم پھر کہ پانامہ پہ ہی آئے گی جناب اگر انصاف ان عدالتوں سے ملنا ہوتا تو سپریم کورٹ کے باہر لٹکی شلواریں ماڈل ٹاؤن میں گری چودہ لاشیں کو مات نہ دیتیں۔ آپ کو ثبوتوں کو ثابت کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ اخبارمیں عدلیہ کی توہین ہو تو سزا دی جا سکتی ہےلکن اشرافیہ کے خلاف ثبوت کے طورپر پیش نہیں کیا جا سکتا اگر نواز شریف خود آکر کرپیشن کا اعتراف کر لیں تب بھی یہ عدالت انہیں باعزت بری کر دے گی۔ جب کسی کو اپنے ریماکس ہیڈ لائنز بنوانے کی فکررہے تو انصاف کا قتل وہیں ہو جاتا ہے۔ پانامہ کا جنازہ جلد ہی سپریم کورٹ کے احاطےمیں ادا کیا جاۓ گا امامت چیف جیسٹس، دعا حاجی نواز شریف کروائیں گے اورلنگر پی ٹی آئ والوں میں تقسیم کیا جاۓ گا۔

 کسی نے سہی کہا تھا

پاکستان میں انصاف کے حاصول کیلیے حضرعلیہ اسلام کی عمر، حضرت ایوب کا صبرعلیہ اسلام اور قارون کی دولت بھی نا کافی ہے۔

About the writer: Kiran Saddique is a writer, a social worker and a women right activist. She is active on Twitter and you can tweet her @Kiran1144

Note: This article is guest post to raddipaper.pk and all points mentioned in the article are write’s personal views.

Sadaf Alvi

Sadaf Alvi is a final year medical student. She is a freelance writer, a blogger and a contributor to Raddi Paper. You can find her on Twitter, Facebook and Instagram @TheGrumpyDoctor or you can email her: sadafspost@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *