کامریڈ فیدیل سے میری دوستی

کامریڈ فیدل سے میری دوستی

تحریر: سید فرخ عباس

میں لگ بھگ بارہ سال کا تھا کہ اپنی ریاضی کی کتاب ڈھونڈھتے ڈھونڈھتے الماری کے اس حصے تک جا پہنچا جہاں میرے ماموں کی کتابیں دھری رہتی تھیں – ان کتابوں میں تاریخ ، فلسفہ، شاعری، مارکس اور لینن کی کتابیں اور متفرق موضوعات پر مقالوں کا ایک ذخیرہ سا موجود رہتا تھا – انہی کتابوں کو الٹتے پلٹتے میرے ہاتھ طبقاتی جدوجہد کا ایک شمارہ لگ گیا –

غالباً مئی کا مہینہ تھا اور کتاب کے سرورق پر ایک با ریش لیکن دوستانہ انداز میں مسکراتے ہوے شخص کی تصویر بہت بھرپور انداز سے جلوہ گر تھی – شمارے کا سرورق پلٹتے ہی میری نظر سرورق کی اندرونی جانب موجود جالب کے ایک قطعے پر پڑی اور کم عمر ہونے کے باوجود مجھے جالب کے الفاظ میں وہی سچائی محسوس ہوئی جو آج پندرہ سال بعد میں محسوس کرتا ہوں ہاں اس کی شدت گو کہ پہلے سے کافی زیادہ ہے –

شمارے کے پہلے صفحے پر ہی ایک اور با ریش لیکن رعب دار شخص کی تصویر سیاہ حاشیے میں لکھے سفید رنگ کے ایک پیغام کے ساتھ موجود تھی – ان سطروں کا مطالعہ کرنے کے بعد نیچے نام دیکھا تو درج تھا ” فیدیل کاسترو ” – نام پڑھنے کے بعد میں دوبارہ سے وہ پیغام پڑھنے میں مصروف ہوگیا –

وہ پیغام در اصل کاسترو کی ایک تقریر سے اقتباس کیا گیا ایک پیرا گراف تھا جس کو پڑھتے ہوے کم و بیش مجھے یہی اندازہ ہوا کہ میں کوئی لا فانی قسم کا کلام پڑھ رہا ہوں اور چند ہی لمحوں میں ان الفاظ کا سحر مجھے مکمل طور پر اپنے حصار میں لے چکا تھا – ریاضی کی کتاب کی تلاش میں بھول چکا تھا اور میرے ذہن پر صرف فیدیل کاسترو کے الفاظ کی گونج چھائی ہوئی تھی – یہ کاسترو سے میرا پہلا تعارف تھا –

پھر یہ بات میرے معمول کا حصہ بن گیی کہ میں جب بھی سکول کا کام ختم کرتا اس کے فوری بعد جدوجہد کے کسی شمارے کو پکڑ کے بیٹھ جاتا اور اس میں موجود مختلف لکھاریوں کی راے کو پڑھتا اور پھر اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق انکو مختلف حالت کے تناظر میں اپنے معاشرے پر ایپلائی کرنے کی سعی کرتا – گو کہ میری پہلی ترجیح کامریڈ فیدل کے الفاظ کی تلاش ہی ہوتی تھی – کبھی کبھار تو اپنے ماموں سے بھی ان شماروں میں موجود تجزیوں کو ڈسکس کرنے بیٹھ جاتا اور جب تک بات میری سمجھ میں نا آجاتی تب تک اس بات کا پیچھا نا چھوڑتا – خیر سکول ختم ہوگیا اور کالج شروع ہوگیا لیکن میرا شوق ختم نہ ہوا –

انٹرنیٹ اور یوٹیوب پہنچ میں آنے سے میرے لئے کامریڈ فیدیل کاستروکو سننا اور پڑھنا زیادہ آسان ہوگیا – کالج میں میرا پسندیدہ مشغلہ اپنے دوستوں کو فیڈل کاسترو اورچے گیویرا کے تقریروں کے اقتباس سنانا ہوتا تھا – کالج ختم ہوگیا لیکن چے گیویرا اور فیدیل کاسترو سے میری دوستی ختم نا ہوئی – جب بھی دنیا میں کوئی نیی جنگ شروع ہوتی یا کوئی بحران سر اٹھاتا میں سب سے پہلے اس پر کامریڈ فیدیل کی راۓ کو تلاش کرتا اور یہ بات محض ایک اتفاق نہیں کہ ہر بار میں اپنے ذہن میں موجود راۓ کو کامریڈ فیدیل کے الفاظ میں عیاں دیکھتا -کامریڈ فیدیل میری زندگی میں اس دوست اور استاد کی حثیت اختیار کر چکے تھے جن کی راۓ میرے لئے سب سے زیادہ اہم ہوتی تھی –

کامریڈ فیدیل اور کامریڈ چے کا باہمی تعلق بھی میرے نزدیک رشک کے قابل ہے – کامریڈ چے کی بولیویا میں شہادت کے بعد کامریڈ فیدل نے یہ تاریخی الفاظ کہے تھے کہ کامریڈ چے کی جدوجہد جاری رہے گی اور میں آخری سانس تک سوشلسٹ رہوں گا –

میرے استاد اور میرے دوست کامریڈ فیدل کی وفات پر میرے پاس الفاظ کا وہ ذخیرہ تو نہیں کہ جس سے میں اس عظیم انسان کو خراج تحسین پیش کر سکوں لیکن کامریڈ فیدل کے الفاظ کو دہرا کر ہی اپنے جذبات کو الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ کامریڈ فیدل کی وفات سے یہ جدو جہد رکے گی نہیں بلکہ جاری رہے گی –

کامریڈ فیدل زندہ باد

About the writer: Syed Farrukh Abbas is a writer, poet, social worker and social media activist. He can be reached on Twitter @Farrukh_Abbas12.

Sadaf Alvi

Sadaf Iqbal Alvi is a freelance writer based in Pakistan. She is a final year medical student and a contributor to Raddi Paper. Her personal interests include higher education, reading, writing and cooking. She is active on social media and can be reached on Facebook, Instagram and Twitter @TheGrumpyDoctor or you can email her sadafspost@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *